3 اگست 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت امریکہ کے لئے وبال جان بن چکی ہے اور تل ابیب کی پالیسیاں علاقے میں امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں۔

ابنا: مہمان پرست نے بیجنگ میں عالمی تحقیقاتی مرکز اور سوشل سائنسز سنٹر میں محققین اور ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی کے علاقے پر امریکہ کے تسلط کے مقاصد میں صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ مہمان پرست نے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں اسلامی بیداری کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ اس وقت امریکہ اور صہیونی ریاست نیز ان کے اتحادیوں نے شام کے خلاف ایک بھرپور جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ انہوں نے شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کوفی عنان کے استعفی کے بارے میں کہا کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک شام میں کوفی عنان کے چھ نکاتی منصوبے سے کسی بھی طرح سے راضی نہیں تھے کیونکہ شام کے تعلق سے امریکہ کی بنیادی پالیسی امن قائم کرنا نہیں بلکہ بدامنی پھیلانا ہے اور جب بھی کوفی عنان کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر آیا امریکہ نے دہشتگردوں کو ہتھیار پہنچا کر شام میں بدامنی پھیلانا شروع کردی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ  مشرق وسطی اور خلیج فارس میں امریکہ کی پالیسیوں کا سد باب کرنے کی ضرورت ہے اور خود مختار اور با اثر ملکوں کو امریکہ کے مقابل اپنا تاریخی کردار ادا کرنا چاہیے۔

.......

/169